اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا

Verses

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا
مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا

اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت
جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا

پھر ڈوبنا، یہ بات بہت سوچ لو پہلے
ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا

یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادہء الفت
ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ملتا

کیوں لوگ بلائیں گے ہمیں بزم ِ سخن میں
اپنا تو کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا

وہ شہر بھلا کیسے لگے اپنا جہاں پر
اک شخص بھی ڈھونڈے سے ہمارا نہیں ملتا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer