آنکھوں میں کہیں عکس تمہارا نہیں کوئی

Verses

آنکھوں میں کہیں عکس تمہارا نہیں کوئی
آنسو ہیں بہت اور ستارا نہیں کوئی

مدت ہوئی اک بار بھی دیکھا نہیں تجھ کو
اور تیرے سوا دن بھی گزرا نہیں کوئی

کہتے ہیں سبھی لوگ کہ پیاری ہے یہ دنیا
دنیا میں مگر آپ سے پیارا نہیں کوئی

سانسوں کی طلب ہیں ترے آنچل کی ہوائیں
آ جاؤ کہ جینے کا سہارا نہیں کوئی

ہے تنگ بہت اس کی عنایات کا دامن
لیکن مری خواہش کا کنارا نہیں کوئی

تنگ آ کے حسن توڑ دیے دل کے سبھی خواب
اس شہر میں اب درد کا مارا نہیں کوئی

سکوتِ مرگ کے سائے بچھا کے لہجے میں

Verses

سکوتِ مرگ کے سائے بچھا کے لہجے میں
پھر اس نے ہم کو پکارا خدا کے لہجے میں

میں تجھ کو مانگ رہا ہوں بڑی عقیدت سے
مگر وہ درد نہیں ہے دعا کے لہجے میں

مرے شعور کی آواز پھر سے جاگ اٹھی
تمہارے نام کی کرنیں سجا کے لہجے میں

کہاں سے سیکھ لئے اہلِ درد کے انداز؟
صدائیں دینے لگے ہو قضا کے لہجے میں

غموں کی بھیڑ میں ہم کھو گئے ہیں اور حسن
کوئی بلاتا نہیں دلربا کے لہجے میں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer