Amir Meenai (1828–1900)

عشق میں جان سے گذرتے ہیں گذرنے والے

Verses

عشق میں جان سے گذرتے ہیں گذرنے والے
موت کی راہ نہیں دیکھتے مرنے والے

آخری وقت بھی پورا نہ کیا وعدہءِ وصل
آپ آتے ہی رہے، مر گئے مرنے والے

اُٹھے اور کوچہءِ محبوب میں پہنچے عاشق
یہ مسافر نہیں راستے میں ٹھہرنے والے

جان دینے کا کہا میں نے تو ہنس کر بولے
تم سلامت رہو ہر روز کے مرنے والے

آسمان پہ جو ستارے نظر آئے امیر
یاد آئے مجھے داغ اپنے اُبھرنے والے

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے

Verses

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
ميں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

تمہيں حور اے شيخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشکِ حور اک پری سوجھتی ہے

يہاں تو ميری جان پر بن رہی ہے
تمہيں جان من دل لگی سوجھتی ہے

جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھيں ملاؤ
وہ کہتے ہيں تم کو يہہ سوجھتی ہے

يہاں تو ہے آنکھوں ميں اندھير دنيا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے

جو کی ميں نے جوبن کی تعريف، بولے
تمہيں اپنے مطلب کی ھہ سوجھتی ہے

امير ايسے ويسے تو مضموں ہيں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے

يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوں

Verses

يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوں
تو سراپا ناز ہے ميں ناز برداروں ميں ہوں

وصل کيسا تيرے ناديدہ خريداروں ميں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں ميں ہوں

ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گا کيونکر کہ تيرے ناز برداروں ميں ہوں

ہائے رے غفلت! نہيں ہے آج تک اتنی خبر
کون ھے مطلوب، ميں کس کے طلب گاروں ميں ہوں

دل جگر دونوں کی لاشيں ہجر ميں ہيں سامنے
ميں کبھی اس کے ،کبھی اس کے عزاداروں ميں ہوں

وقتِ آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسين
اب وہ آزادی کہاں ہے، ميں بھی گرفتاروں ميں ہوں

آ چکا تھا رحم اس کو سن کے ميری بے کسی
دردِ ظالم بول اٹھا، ميں اس کے غم خواروں ميں ہوں

پھول ميں پھولوں ميں ہوں، کانٹا کانٹوں ميں امير
يار ميں ياروں ميں ہوں، عيار ، عياروں ميں ہوں

پرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتا

Verses

پرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتا
تيور نہیں آتے ھيں کہ چکر نہيں آتا

تم لاکھ قسم کھاتے ھو ملنےکي عدو سے
ايمان سے کہہ دوں مجھے باور نہيں آتا

ڈرتا ھے کہيں آپ نہ پڑ جائے بلا ميں
کوچے ميں ترے فتنہء محشر نہيں آتا

جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی ديکھ لے ظالم
پھر ديکھوں کہ رونا تجھے کيو نکر نہيں آتا

کہتے ہيں يہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمہارے
سينے سے تڑپ کر کبھی باھر نہيں آتا

دشمن کو کبھی ہوتی ہے مرے دل پہ رقعت
پر دل يہ تيرا ہے کہ کبھی بھر نہيں آتا

کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہيں تيور
کب بيٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہيں آتا

غربت کدہ دہر ميں صدمے سے ہيں صدمے
اس پر بھی کبھی ياد ہميں گھر نہيں آتا

ہم جس کی ہوس ميں ہيں امير آپ سے باہر
وہ پردہ نشين گھر سے باہر نہيں آتا

ايک دل ھم دم مرے پہلو سے کيا جاتا رہا

Verses

ايک دل ھم دم مرے پہلو سے کيا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

سب کرشمے تھے جواني کے ، جواني کيا گئي
وہ امنگيں مٹ گئيں وہ ولولہ جاتا رہا

آنے والا جانے والا، بے کسي ميں کون تھا
ہاں مگر اک دم غريب، آتا رھا جاتا رہا

مرگيا ميں جب ، تو ظالم نے کہا کہ افسوس آج
ھائے ظالم ھائے ظالم ظلم کا مزہ جاتا رہا

شربت ديدار سے تسکين سي کچھ ہوگئي
ديکھ لينے سےدوا کے ، درد کيا جاتا رہا

مجھ کو گليوں ميں جو ديکہا ، چھيڑ کر کنہے لگے
کيوں مياں کيا ڈھونڈتے پھر رہے ھو، کيا جاتا رہا

جب تلک تم تھےکشيدہ دل تھا شکووں سے بھرا
جب گلے سے مل گئے، سارا گلہ جاتا رہا

ھائے وہ صبح شب وصل، ان کا کہنا شرم سے
اب تو ميري بے وفائي کا گلہ جاتا رہا

دل وہي، آنکہيں وہي، ليکن جواني وہ کہاں
ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا

گھورتے ديکھا جو ھم چشموں کو جھنجلا کر کہا
کيا لحاظ آنکھوں کا بھي او بے حيا جاتا رہا

کھو گيا دل کھو گيا، رھتا تو کيا ھوتا امير
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا

ان شوخ حسينوں پہ مائل نہيں ہوتا

Verses

ان شوخ حسينوں پہ مائل نہيں ہوتا
کچھ اور بلا ھوتی وہ دل نہيں ہوتا

کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہيں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی ميرا دل نہيں ہوتا

گردن تن بسمل سے جدا ہوگئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہيں ہوتا

دنيا ميں پري زاد دئيے خلد ميں حوريں
بندوں سے وہ اپنے کبھي غافل نہيں ہوتا

دل مجھ سے ليا ھے تو زرا بولئیے ھنسئے
چٹکی ميں مسلنے کے لئے دل نہيں ہوتا

عاشق کے بہل جانے کو اتنا بھی ھے کافی
غم دل کا تو ھوتا ھے اگر دل نہيں ہوتا

فرياد کروں دل کےستانےکي اسی سے
راضی مگراس پر بھي مير ادل نہيں ہوتا

مرنے کے بتوں پر يہ ھوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ھيں مشکل، مجھے مشکل نہيں ہوتا

جس بزم ميں وہ رخ سے اٹھا ديتے ھيں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا

کہتے ھيں کہ تڑپتے ھيں جو عاشق دل کے
ہوتا ھے کہاں درد اگر دل نہيں ہوتا

يہ شعر وہ فن ھے کہ امير اس کو جو برتو
حاصل يہي ہوتا ھے کہ حاصل نہيں ہوتا

دامنوں کا پتہ ھے نہ گريبانوں کا

Verses

دامنوں کا پتہ ھے نہ گريبانوں کا
حشر کہتے ھيں جسے شہر ھے عريانوں کا

گھر ھے اللہ کاگھر بے سر و سامانوں کا
پاسبانوں کا يہاں کام نہ دربانوں کا

گور کسریٰ و فريدوں پہ جو پہنچوں پوچھوں
تم يہاں سوتے ھو کيا حال ھے ايوانوں کا

کيا لکھيں يار کو نامہ کہ نقاہت سے يہاں
فاصلہ خامہ و کاغذ ميں ھے ميدانوں کا

دل يہ سمجہا جو ترے بالوں کا جوڑا ديکھا
ھے شکنجے ميں يہ مجموعہ پريشانوں کا

موجيں دريا ميں جو اٹھتي ھوئي ديکھيں سمجھا
يہ بھي مجمع ھے تيرے چاک گريبانوں کا

تير پہ تير لگاتا ھے کماندار فلک
خانہ دل ميں ہجوم آج ھے مہمانوں کا

بسملوں کي دم رخصت ھے مدارات ضرور
يار بيڑا تيري تلوار ميں ھو پانو ں کا

ميرے اعصا نے پھنسايا ھے مجہے عصياں ميں
شکوہ آنکھوں کا کروں يا ميں گلہ کانوں کا

قدر داں چاہئے ديوان ھمارا ھے امير
منتخب مصحفي و مير کے ديوانوں کا

سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ

Verses

سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت ائی اور شباب آہستہ آہستہ

شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ

ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ

وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں‌ ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ

وصل ھو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے

Verses

وصل ھو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے

آج کی بات کو کيوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

محتسب پوچھ نہ تو شيشے ميں کيا رکھا ہے

پارسائی کا لہو اس ميں بھرا رکھا ہے

کہتے ہيں آئے جوانی تو يہ چوری نکلے

ميرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے

اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھيں

آپ تو سوتے ہيں، فتنوں کو جگا رکھا ہے

آدمي زاد ہيں دنيا کے حسيں ،ليکن امير

يار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

دورسا کون ہے ? جہاں تو ہے

Verses

دورسا کون ہے ? جہاں تو ہے
کون جانے تجھے ، کہاں تو ہے

لاکھ پردوں میں تو ہے بے پردہ
سو نشانوں پہ بے نشاں تو ہے

تو ہے خلوت میں تو ہے جلوت میں
کہیں پنہاں کہیں عیاں تو ہے

نہیں تیرے سوا یہاں کوئی
میزباں تو ہے میہماں تو ہے

رنگ تیرا چمن میں بو تیری
خوب دیکھا تو باغباں تو ہے

محرم راز تو بہت ہیں امیر
جس کو کہتے ہیں راز داں تو ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer