گزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے

Verses

گزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے
اگر ہم روز و شب کی ڈائری تحریر کر لیتے

محبت نفرتوں کے دور میں ایسے نہ کم ہوتی
اگر کچھ لوگ ہی کردار کی تعمیر کر لیتے

نہیں ہے دکھ بچھڑنے کا مگر دل میں یہ حسرت ہے
تمہارا پھول سا چہرہ تو ہم تصویر کر لیتے

ہمارے پیار کا قصہ سناتا ہرکس و ناکس
ہم اپنے اس فسانے کی اگر تشہیر کر لیتے

تمہارے یوں‌بچھڑنے کا مداوا ہو بھی سکتا تھا
ذرا جو تم ٹھہر جاتے کوئی تدبیر کر لیتے

ہماری خواہشوں کی خودبخود تکمیل ہو جاتی
ہم اپنی ذات کو آصف اگر تسخیر کر لیتے

نہیں ہوتا نسب محبت میں

Verses

نہیں ہوتا نسب محبت میں
کیا عجم ، کیا عرب محبت میں

ہم نے اک زندگی گزاری ہے
تم تو آئے ہو اب محبت میں

اور کیا کلفتیں اٹھاتے ہم
ہو گئے جاں بلب محبت میں

خامشی ہی زبان ہوتی ہے
بولتے کب ہیں لب محبت میں

آگہی کے جہان کھلتے ہیں
چوٹ لگتی ہے جب محبت میں

یہ ہے دشتِ جنوں، یہاں ساجن
چاک داماں ہیں سب محبت میں

راہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیا

Verses

راہِ جنوں پہ چل پڑ ے ، جینا محال کر لیا
ہم نے تلاشِ حسن میں خود کو نڈھال کر لیا

مجھ کو تو خیر چھوڑ ئیے ، میری تو بات اور تھی
یہ بھی بہت ہے ، اُس نے کچھ اپنا خیال کر لیا

کیسے وہ دن تھے پیار کے ، خود پہ بھی جب یقین تھا
پل میں جدائی ڈال لی، پل میں وصال کر لیا

جیتے رہے ہیں وصل میں ، مرتے رہے ہیں ہجر میں
یہ بھی کمال کر لیا، وہ بھی کمال کر لیا

اپنی بھی کچھ خبر نہیں ، دل کی بھی کچھ خبر نہیں
ہم نے تمہارے ہجر میں ، کیسا یہ حال کر لیا

دل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیں

Verses

دل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیں
ہم ہیں حصارِ درد میں ، اُس کو خیال بھی نہیں

اتنا ہے اس سے رابطہ، چھاؤں سے جو ہے دھوپ کا
یہ جو نہیں ہے ہجر تو پھر یہ وصال بھی نہیں

وہ جو انا پرست ہے ، میں بھی وفا پرست ہوں
اُس کی مثال بھی نہیں ، میری مثال بھی نہیں

عہدِوصالِ یار کی تجھ میں نہاں ہیں دھڑ کنیں
موجۂ خون احتیاط! خود کو اُچھال بھی نہیں

تم کو زبان دے چکے ، دل کا جہان دے چکے
عہدِوفا کو توڑ دیں ، اپنی مجال بھی نہیں

اُس سے کہو کہ دو گھڑ ی، ہم سے وہ آملے کبھی
مانا! یہ ہے محال پر، اتنا محال بھی نہیں

درد کی ایک بے کراں رُت ہے

Verses

چند لمحے وصال موسم کے

درد کی ایک بے کراں رُت ہے
حبس موسم کا راج ہر جانب
چند لمحے وصال موسم کے !
وہ نشیلی غزال سی آنکھیں
کوئی خوشبو سیاہ زلفوں کی
لمس پھر وہ حنائی ہاتھوں کا
کوئی سرخی وفا کے پیکر کی!
پھر سے شیریں دہن سے باتیں ہوں
دل کی دنیا اداس ہے کتنی
کوئی منظر بھی اب نہیں بھاتا
چند لمحے وصال موسم کے !

اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے

Verses

صدیوں سے اجنبی

اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے
میری یادوں کا ایک سرمایہ
خوشبو وں سے بھرا بدن اس کا
قابلِ دید بانکپن اُس کا
شعلہ افروز حسن تھا اُس کا
دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی

مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی
خواہشوں کے چمن میں ہر جانب
چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے
اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا
اک پری آسماں سے اتری ہو

جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے
ساتھ میرے چلو گی تم کب تک
مجھ سے قسمیں اُٹھا کے کہتی تھی
تُو اگر مجھ سے دور ہو جائے
ایک پل بھی نہ جی سکوں گی میں
آج وہ جب جدا ہوئی مجھ سے
اُس نے تو الوداع بھی نہ کہا
جیسے صدیوں سے اجنبی تھے ہم

متفرق اشعار

Verses

متفرق اشعار

تمہارے یوں بچھڑ نے کا مداوا ہو بھی سکتا تھا
ذرا جو تم ٹھہر جاتے ، کوئی تدبیر کر لیتے
٭
ضرب فرقت کی ابھی اور لگاؤ اِس پر
شوق مرتا ہی نہیں ایک محبت کر کے
وہ تو اِک بار ہوا تھا کبھی رخصت لیکن
یاد کرتا ہوں اُسے روز میں رخصت کر کے
٭
کسی طوفان میں جیسے کنارا یاد آتا ہے
مجھے تنہائی میں چہرہ تمہارا یاد آتا ہے
٭
زمیں ہے آسمان تک
ہمیں نہ تھا گمان تک

٭
تو بھی ایسے ، جیسے خواب
کیسے ہوں پھر پورے خواب
میری چیزیں واپس کر دو
ڈھڑ کن، آنسو، ٹوٹے خواب
٭
سرِ شاخ کتنے ہی پھول تھے جو حسین تھے
ترے ہاتھ میں جو گلاب تھا، وہ کمال تھا
٭
جب سمندر کو دیکھتا ہوں میں
شور دل کا سنائی دیتا ہے
٭
وفا میں اتنی دور تک چلے گئے
دلوں پہ اختیار بھی نہیں رہا
اُسی کو آج تک نبھا رہا ہوں میں
جو عہد برقرار بھی نہیں رہا
٭
تجھے جانتا بھی نہیں کوئی، مرا حرف حرف ہے معتبر
تجھے زر ملا، مجھے شہرتیں ، ہی تو اپنا پنا نصیب ہے
٭
میں جو ہارا ہوں تو ، تُو بھی نہیں جیتا مجھ سے
دوست! اِس کھیل کا کیا خوب نتیجہ نکلا
٭
آج ہم اُس سے بچھڑ کر بھی ہیں زندہ، جیسے
شاخ کٹ جائے مگر خود کو ہرا بھی رکھے
٭
پنسلوں اور کاپیوں سے بات چل نکلی، تو پھر
ایک دن اس کے لیے ہم چوڑ یاں تک لے گئے

تری آنکھیں سمندر تھیں ، میں ان میں ڈوب جاتا تھا

Verses

تری آنکھیں سمندر تھیں ، میں ان میں ڈوب جاتا تھا
عجب تعبیر ہے اس کی جو میں نے خواب دیکھا تھا

کئی سیلاب اشکوں کے مری آنکھوں سے بہہ نکلے
خبر سن کر جدائی کی میں کتنی دیر رویا تھا

یہ دنیا کی عداوت تھی، کہ چکر میری قسمت کا
تری قربت کے لمحوں سے مجھے محروم رہنا تھا

اٹھاتا کس طرح بارِ ہوا میں دوش پر اپنے
مجھے کشتِ محبت کو بھی تو سیراب کرنا تھا

کسی لاعلم قوت نے مجھے دنیا میں لا پھینکا
اسی رد عمل ہی میں مجھے مرکز سے ہٹنا تھا

دکھاتا کس طرح کربِ دروں دنیا کو میں آصف
کہ میرا دردِ الفت ہی جہاں بھر سے نرالا تھا

محبت کی حسیں رت میں تمہیں ہم سے بچھڑ نا تھا

Verses

محبت کی حسیں رت میں تمہیں ہم سے بچھڑ نا تھا
اگرچہ زخم گہرا ہے مگر ایسا تو ہونا تھا

جوانی کے حسیں جذبے مری آنکھوں بھر آئے
زمانے بھر کے خوابوں کو جہاں میں نے سجایا تھا

اسے یادوں کی البم میں سجایا ہے قرینے سے
کھلی کھڑ کی سے جو تم نے گلابی پھول پھینکا تھا

مرے اند کئی صحرا سلگتے تھے خلش بن کر
تری گمنام الفت کا ازل ہی سے میں پیاسا تھا

میں اس کے ساتھ بیتے دن بھلاؤں کس طرح آصف
مرے ہر سو بہاریں تھیں ، مرے ہر سو اجالا تھا

ہر طرف ہے فسوں محبت کا

Verses

ہر طرف ہے فسوں محبت کا
گیت میں بھی سنوں محبت کا

یہ جو شعلے ہیں میری آنکھوں میں
ہے یہ سوزِ دروں محبت کا

تم یہ کہتے ہو، میں رہوں زندہ
اور دکھ بھی سہوں محبت کا

سوچتا ہوں کہ اب تمہارے بغیر
لفظ کیسے لکھوں محبت کا

آج دنیا نے جیت لی بازی
آج سر ہے نگوں محبت کا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer