میں نے دیکھا ہے یہ ہر روز سحر سے پہلے

Verses

میں نے دیکھا ہے یہ ہر روز سحر سے پہلے
پھول آتے ہیں گلستاں میں بشر سے پہلے

کیسے منزل ملے ہم کو، ہیں اُنہی میں شامل
لٹ گئے لوگ جو آغازِسفر سے پہلے

آخری میں ہی تھا،پہنچا تھا جو ان کے دَر پر
لوگ پہنچے تھے میرے خونِ جگر سے پہلے

ہم نے واللہ سوا تیرے کسی شخص کو بھی
کبھی دیکھا نہیں اُلفت کی نظر سے پہلے

دیس دُوری کے سبب تلخی سی ہے عادت میں
ایسے ہرگز نہ تھے محرومی ِ دَر سے پہلے

آج ہر حال میں اعلان ِوفا کرنا ہے
کرسکے جس کو نہ ہم شاہ کے ڈر سے پہلے

میرے ماں باپ، مری جاں ہو ان پر قربان
حرزِ جاں ہیں وہ مجھے بنت و پسر سے پہلے

پھڑپھڑا بھی نہ سکے ذبح کے دوراں شہزاد
اس نے پَر کاٹ کے رکھوا دیئے سَر سے پہلے

بات اظہار تک چلی آئی

Verses

بات اظہار تک چلی آئی
لالی رخسار تک چلی آئی

ڈھونڈتے ڈھونڈتے نظر تجھ کو
درِ دیدار تک چلی آئی

تیرے جانے کی جب خبر پھیلی
تیرگی دار تک چلی آئی

کیا کشش تھی کہ چاہنے والی
شہر سے غار تک چلی آئی

کب کسی سے وہ رکنے والی تھی
موت دربار تک چلی آئی

اتنا روئے کہ آنسوؤں کی نمی
تیری دیوار تک چلی آئی

تیرے غم نعرہ زن رہے دل میں
گونج پندار تک چلی آئی

آنکھ ملنے کی دیر تھی شہزاد
بات اقرار تک چلی آئی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer