خوشی کو بانٹنے والو

Verses

خوشی کو بانٹنے والو

مرے ہمراہ چلتے ہو
میں ہنستا ہوں تو ہنستے ہو
سبھی کو یہ بتاتے ہو
کہ تم مجھ کو سمجھتے ہو
خوشی کے سب زمانے تو
اکٹھے ہم نے دیکھے ہیں
مگر غم کی سیہ راتیں
جو مجھ کو گھیر لیتی ہیں
میں تم کو ڈھونڈتا ہوں تب
کہ شاید روشنی بن کر
سیہ راتوں کو تم دن میں
بدلنے کو چلے آؤ
مگر ایسا نہیں ہوتا
سیہ راتوں کے چنگل سے
چھڑانے تم نہیں آتے
تمہیں اتنا ہی کہنا ہے
میں ہنستا ہوں تو ہنستے ہو
کبھی روتا ہوا دیکھو
تو میرے اشک بھی پونچھو
خوشی کو بانٹنے والو!
کبھی غم بانٹنے آو

اس طرح ہوں ترے خیال میں گم

Verses

اس طرح ہوں ترے خیال میں گم
آئینہ ، آئینوں کے جال میں گم

وہ بھی دیتا نہیں خبر اپنی
میں بھی رہتا ہوں اپنے حال میں گم

میں نے پوچھا بچھڑ کے جی لو گے؟
اور وہ ہو گیا سوال میں گم

وقت نے تو سمیٹ لی بازی!
اور وہ رہ گیا ہے چال میں گم

یاد آئی تو دل ہوا روشن
میں رہا پھر اسی اجال میں گم

مجھ سے نظریں چرا کے وہ گزرا
اور میں ہو گیا ملال میں گم

جس کو عاطف یہ عشق نچوائے
کیوں وہ رہتا ہے اس دھمال میں گم

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer