امجد اسلام امجد

نہ شکا یتیں نہ گلہ کرے

Verses

نہ شکا یتیں نہ گلہ کرے
کوئی ایسا شخص ہوا کرے
جو میرے لیے ہی سجا کرے
مجھ ہی سے باتیں کیا کرے

کبھی روئے جائے وہ بے پناہ
کبھی بے تہاشا اداس ہو
کبھی چپکے چپکے دبے قدم
میرے پیچھے آ کر ہنسا کرے

میری قربتیں میری چا ہتیں
کوئی یاد کرے قدم قدم
میں طویل سفر میں ہوں اگر
میری واپسی کی دعا کرے

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے

Verses

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے
یہ رکے اگر۔۔۔۔یہ رکے اگر تو نشاں ملے
یہ نشاں ملے کے جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں
میرے آسماں سے کدھر گئ
تیرے التفات کہ کہکشاں
میرے بے خبر میرے بےنشاں
یہ رکے اگر تو پتہ چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں
کہ زماں مکاں کی وسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
وہ میرے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پہ برس گئ
میرے چار سو ہے غبارِ جاں و فشار جاں
کہ خبر نہیں میرے ہاتھ کو میرے ہاتھ کی
میرے خواب سے تیرے بام تک
تیری رہگزر کا تو ذکر کیا
نہیں ضوفشاں تیرے نام تک
ہیں دھواں دھواں میرے استخواں
میرے آنسوؤں میں بھجے ہوئے میرے استخواں
میرے نقش گر،میرے نقش ِ جاں
اس ریگِ دشتِ فراق میں رہے منتظر۔۔۔۔۔۔۔تیرے منتظر
میرے خواب جن کے فشار میں
رہی میرے حال سے بےخبر
تیری رہگزر!
تیری رہگزر کے جو نقش ہیں میرے ہاتھ پر
مگر اس بلا کی ہے تیرگی
کہ نہیں خبر میرے ہاتھ کو میرے ہاتھ کی
وہ چشمِ شعبدہ ساز تھی وہ اٹھے اگر
میرے استخواں میں ہو روشنی
اسی اک لمحہ دید میں تیری رہگزر
میری تیرہ جاں میں چمک اٹھے میری خواب سے تیرے بام تک
سبھی منظروں میں دمک اٹھے
اسی ایک پل میں ہو جاوداں
میری آرزو کہ ہے بیکراں
میری زندگی کہ ہے مختصر
یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے
یہ رکے اگر

امجد اسلام امجد

عشق نہ پُو چھے ذات

Verses

سب کی اِک اوقات " عشق نہ پُو چھے ذات"
بالکل بُھول گئے کرنی تھی کیا بات

سَستا کر دے گئی زر کی یہ افراط!
اَب سے تیرے ہیں میرے دن اور رات

سچُے جذبوں سے مہنگی ہوگئی دھات
اب کے خُوب ہوئی بِن موسم برسات

کٹ ہی جاتی ہے کیسی بھی رات !
باسی ہوئی جائے دل میں رکھی بات

کچّی ڈور، میاں! کب تک دیتی ساتھ!
گِر ہیں کھولے گا جانے کب وہ ہاتھ !

تجھ کو چاہوں مَیں کیا میری اوقات!
کیسے اُجڑ گئے ؟ خوابوں کے باغات

زندگی کے میلے میں

Verses

زندگی کے میلے میں،
خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے،
سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی
ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب
دو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں،
بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں
تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں
چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے،
بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو ۔۔۔
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں
گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو
اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ
ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں،
اس قدر جھمیلے میں ۔۔

کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں

Verses

کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں
امجد مگر وہ شخص مجھے بُھولتا نہیں

ڈرتا ہُوں آنکھ کھولوں تو منظر بدل نہ جائے
مَیں جاگ تو رہا ہُوں مگر جاگتا نہیں

آشفتگی سے اُس کی اُسے بے وفا نہ جان
عادت کی بات اور ہے دِل کا بُرا نہیں

صاحبِ نظر سے کرتا ہے پتّھر بھی گُفتگو
ناجنس کے حضور زباں کھولتا نہیں

تنہا اُداس چاند کو سمجھو نہ بےخبر
ہر بات سُن رہا ہے مگر بولتا نہیں

خاموش رتجگوں کا دُھواں تھا چہار سُو
نِکلا کب آفتاب مُجھے تو پتا نہیں

امجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر
اُن میں کوئی بھی عکس مِرے نام کا نہیں

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

Verses

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے
دشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے

حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و دَر میں تھا
نگلے ہوئے سوال تھے، اُگلے ہوئے جواب تھے

اب کے برس بہار کی رُت بھی تھی اِنتظار کی
لہجوں میں سیلِ درد تھا، آنکھوں میں اضطراب تھے

خوابوں کے چاند ڈھل گئے، تاروں کے دم نکل گئے
پھولوں کے ہاتھ جل گئے، کیسے یہ آفتاب تھے؟

سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
کیسی عجیب پیاس تھی‘ کیا عجب سحاب تھے!

عمر اسی تضاد میں رزقِ غبار ہو گئی
جسم تھا اور عذاب تھے، آنکھیں تھیں اور خواب تھے

صبح ہوئی تو شہر کے شور میں یوں بِکھر گئے
جیسے وہ آدمی نہ تھے، نقش و نگارِ آب تھے

آنکھوں میں خون بھر گئے، رستوں میں ہی بِکھر گئے
آنے سے قبل مر گئے، ایسے بھی انقلاب تھے

ساتھ وہ ایک رات کا چشم زدن کی بات تھا
پھر نہ وہ التفات تھا، پھر نہ وہ اجتناب تھے

ربط کی بات اور ہے، ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے، اِس میں کبھی گلاب تھے

اَبر برس کے کھُل گئے، جی کے غبار دُھل گئے
آنکھ میں رُونما ہوئے، شہر جو زیرِ آب تھے

درد کی رہگزار میں، چلتے تو کِس خمار میں
چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے

امجد اسلام امجد

کہتا ہے دَر پن

Verses

کہتا ہے دَر پن
میرے جیسا بن

تار یکی کی موت
ایک نحیف کِرن

محنت اپنا مال
وقت ، پرایا دَھن

بات نہ کرنے سے
بڑھتی ہے اُلجھن

اپنے دِل جیسا
کوئی نہیں دشمن

دُنیا لو ٹا دے
میرا اپنا پن

جُھولے جی اُٹّھے
جاگ پڑے جامن

روز وہی قِصّہ
روز وہی اُلجھن

صدیاں لُوٹ گئیں
پائل کی چَھن چَھن

یہ تو برسے گا
ساون ہے، ساون

سارے خاک سَمان
تَن اور مَن اور دَھن

اپنوں ہی سے تو
ہوتی ہے اَن بَن

سب سے اچّھا ہے
اپنا گھر آنگن

پیاس بڑی ہے یا
سونے کا برتن؟

کیا اُفتاد پڑی
لگتا نہیں مَن

آدم زاد نہیں
بستی ہے یا بَن

کیسا بھی ہو رُوپ
مٹی ہے مدفن

سَکّے کے دو رُخ
بِرہن اور دُلہن

دھوکہ دیتے ہیں
اُجلے پیراہن

راہ میں کِھلتا پُھول
بیوہ کا جوبن

دونوں جُھوٹے ہیں
ساجن اور سَاون

آہٹ کِس کی ہے
تیز ہُوئی دھڑکن

اُتنی خواہش کر
جِتنا ہے دامن

ہم تم دونوں ہیں
دَھرتی اور ساون

عکس بنے کیسے؟
دُھندلا ہے درپن

زیر آب ہُوئے
خوابوں کے مسکن

ٹھہر گیا ہے کیوں
آنکھوں میں ساون

(ق)

کچّا سونا ہی
بنتا ہے کُندن

اِک دِنِ نکھرے گا
سچّا ہے گر، فن

کیسے روک سکے
خُوشبو کو گلشن

امجد میرے ساتھ
اَب تک ہے بچپن

شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے

Verses

شمارِ گردش لیل و نہار کرتے ہُوئے
گُزر چلی ہے ترا انتظار کرتے ہُوئے

خُدا گواہ ، وہ آسُودگی نہیں پائی
تمہارے بعد کسی سے بھی پیار کرتے ہوئے

اَزل سے یونہی چلی آرہی ہے یہ دُنیا
اِسے نِہال ، اُسے بے قرار کرے ہُوئے

تمام اہلِ سَفر ایک سے نہیں ہوتے
کُھلا یہ وقت کے دریا کو پار کرتے ہوئے

ق

عجب نہیں کبھی گُزرے ترے خیال کی رَو
مِرے گمان کے طائر شکار کرتے ہُوئے

کہیں چُھپائے مرے سامنے کے سب منظر
مجھے ، مجھی پہ کبھی آشکار کرتے ہُوئے

کِسے خبر ہے کہ اہلِ چمن پہ کیا گزری
خزاں کی شام کو صبحِ بہار کرتے ہُوئے

ہَوس کی اور لُغت ہے, وفا کی اور زباں
یہ راز ہم پہ کُھلا ، انتظار کرتے ہُوئے

عجیب شے ہے محبت کہ شاد رہتی ہے
تباہ ہوتے ہوئے اور غبار کرتے ہُوئے

ق

جو ہوسکے تو کبھی میر جی سے یہ پُوچھیں
یہ جان اُن کی غزل پرنثار کرتے ہُوئے

یہ کار خانہ اگر سرتا پا توہّم ہے ؟
تو لوگ کیسے چلیں ، اعتبار کرتے ہوئے

ہمارے بس میں کوئی فیصلہ تھا کب امجد
جُنوں کو چُنتے ، وفا اختیار کرتے ہُوئے

کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھرتی ہے ذات اور

Verses

کرتا ہُوں جمع میں تو بِکھرتی ہے ذات اور
باقی ہے کِتنی اے مرے مولا ، یہ رات اور

لیتی ہے جلتی شمع بھی بُجھنے میں کُچھ تو وقت
ہے آدمی سا کوئی کہاں بے ثبات اور

سیلاب جیسے لیتا ہے دیوار کے قدم
کرتا ہے غم بھی دل سے کوئی واردات اور

یوں تو حضورِ پاک کے لاکھوں ہیں مدح خواں
تائب سی لِکھ رہا ہے مگر کون ، نعت اور

مظہر ، اَزل کے حُسن کے امجد ہیں بے شُمار
لیکن جو دیکھئے تو ہے بارش کی بات اور

دو گھڑی دِل کا حال سُنتا جا

Verses

دو گھڑی دِل کا حال سُنتا جا
اے مِرے خُوش جمال سُنتا جا

عِشق کی خُود سُپردگی کو دیکھ
عقل کی قِیل و قال ‘ سُنتا جا

یہ اَماوس کی آخری شب ہے
داستانِ ملال ، سُنتا جا

" من نہ کردم ، شما حذر بکنید "
زندگی کا مآل ، سُنتا جا

تجھ سے کرنا نہیں جواب طلب
آخری اِک سوال سُنتا جا

گُونج میں ٹوٹتے ستاروں کی
سب عُروج و زوال سُنتا جا

تجھ پہ بیتی ہے جو بھی کہہ امجد
کُچھ مِرے حسبِ حال ، سُنتا جا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer