زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں

Verses

زندگی جب بھی تیری بزم میں لاتی ہے ہمیں
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں

سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں
دن ڈھلے یوں تیری آواز بلاتی ہے ہمیں

یاد تیری ، کبھی دستک ، کبھی سرگوشی سے
رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں

ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے ؟
اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے ہمیں

پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا

Verses

پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
خوشبوئیں تجھ میں اترتی تھیں مہکتا میں تھا

میری سانوں میں گھلی تھیں تری صبحیں شامیں
تیری یادوں میں گزرتا ہوا عرصہ میں تھا

شور تھا جیسے سمندر میں ہو گرتا دریا
اور جب غور سے دیکھا تو اکیلا میں تھا

عہد رفتہ تھا ادھر اور اُدھر آئندہ
دونوں وقتوں کو ملاتا ہوا لمحہ میں تھا

رات کی گود میں سر رکھ کے زمیں سو جاتی
صبح تک چاند کے سینے میں دھڑکتا میں تھا

اپنی ہی آگ میں جب لوگ جھلسنے لگتے
سب کے ہونٹوں پہ دعا بن کے ابھرتا میں تھا

جس پہ دریا نے کناروں سے بغاوت کر دی
بارش خون کا وہ آخری قطرہ میں تھا

آنکھ رکھتا تھا کھلی اور طبیعت موزوں
تجربے دوسرے کرتے تھے اور سنورتا میں تھا

خزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھی

Verses

خزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھی
مُجھے تو گُل کی توقّع ہے نوکِ خار سے بھی

مُصر ہوُں مَیں، کہ گِنا جاؤں باوقاروں میں
انھیں یہ ضِد کہ مَیں خارج ہوں شمار سے بھی

جہاں بھی جاؤں، اسیرِ حیات رہتا ہوُں
یہ مسئلہ تو نہ حل ہو سکا فرار سے بھی

سحر کی کِتنی دُعا ئیں خُدا سے مانگی ہیں
اب التماس کروں گا جمالِ یار سے بھی

عجیب حشرِ محبّت کا سامنا ہے، کہ وہ
خفا خفا ہے، مگر دیکھتا ہے پیار سے بھی

مَیں مر بھی جاؤں تو تخلیق سے نہ باز آؤں
بنیں گے نت نئے خاکے میرے غبار سے بھی

ندیم وقت کا مرہم نہ میرے کام آیا
کہ زخمِ دل نہ بھرا طوُلِ انتظار سے بھی

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

Verses

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے

Verses

ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے
دیارِ درد سے کوئے فغاں سے

مرا سایہ بھی مجھ سے ہے گریزاں
شکایت کیا غبارِ کارواں سے

تلاش و آرزو میں عمر گذری
”تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے“

محبت ہی تھی انعامِ محبت
میں جب نکلا غمِ سود و زیاں سے

بہاروں نے فقط دیوانگی دی
کوئی امید ہے تو ہے خزاں سے

”تکلف برطرف میں صاف کہہ دوں“
تمہارا نام ہے اِس بے نشاں سے

حریمِ ناز میں ہے ذکر میرا
کہاں تک بات پہنچی ہے کہاں سے

مقدر ہی ترا ایسا ہے سرور
گلہ کیسا زمین و آسماں سے

Dheere Se Jaana Khatiyan Mein

ai ai ai sambhal, sur pakaD ke
hmmmmmm hey hey hey haaN

(dheere se jaanaa) -2 khaTiyan mein o.. khaTmal
dheere se jaanaa khaTiyan mein
dheere se jaanaa khaTiyan mein o.. khaTmal
dheere se jaanaa khaTiyan mein
soyee hai raaj kumaari, soyee hai
soyee hai raaj kumaari dekh rahi meeThe sapne
(jaa jaa chhup jaa) -2 takiyan mein o.. khaTmal
dheere se jaanaa khaTiyan mein

veeraaN thi apni zindagi aur soonaa thaa apnaa makaan
haai haai re kismat

Uljhan Suajhe Na

uljhan sulajhe na rasta soojhe na
jau kaha main jau kaha??

mera dil ka andhera
huwa aur ghanera
kuchh samajh na pau
kya hona hain mera
khadi do rahein par
ye sochu ghabhrakar
jau kaha main ??

jo saans bhi aaye
tan cheer ke jaye
is haal se koi
kis tarah nibhaye
na jeena raas aaya
na marna hi bhaya
jau kaha main ??

koi aas pale na
koi phool khile na
taqdeer ke aage
meri pesh chale na
bahut ki tadbeerein
na tooti zanjeerein
jau kaha main

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer