Aa Gup Chup Pyar Kare

(aa gup chup gup chup pyar kare
chhup chhup aankhein chaar kare) - 2

oh char musafir raat ke - 2 kyun sune hamari baatein
tumne toh dekhi hogi aaisi kitni hi raatein
chhup ja re ja chhup ja teri minnat sau sau baar kare
aa gup chup pyar kare
chhup chhup gup chup aankhein chaar kare
aa gup chup gup chup pyar kare

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا

Verses

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
ھوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا

کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا میرا انتظار کرنا

جو لوگ جائیں تو پھر تمھیں یاد بھی نہ آئیں
کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا

کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا
میری طرح اپنے آپ کو سوگوار کرنا

تمام وعدے کہاں تک یاد رکھ سکو گے؟
جو بھول جائیں وہ عہد بھی استوار کرنا

یہ کس کی آنکھوں نے بادلوں کو سکھا دیا ھے
کہ سینہ سنگ سے رواں آبشار کرنا

میں زندگی سے نہ کھل سکا اس لیے بھی"محسن"
کہ بہتے پانی پہ کب تلک اعتبار کرنا

جتنے دن اس بت کو اپنا غم سنانے میں لگے

Verses

جتنے دن اس بت کو اپنا غم سنانے میں لگے
سال کتنے اس دنوں کے آنے جانے میں لگے

راستے ہی راستے تھے آخر منزل تلک
رنج کتنے اک خوشی کا خواب آنے میں لگے

یاد آئی صبح کوئی ابتدائے عمر کی
وہ گلِ تازہ کی صورت مسکرانے میں لگے

ہے بسنت آنے کو اڑتی پھر رہی ہیں باغ میں
تتلیوں کو رنگ کیسے اس زمانے میں لگے

کس محبت سے ہوا تعمیر مدت میں منیر
چند لمحے جو نگر کی خاک اڑانے میں لگے

نئے انساں کے عجب تیور ہیں

Verses

نئے انساں کے عجب تیور ہیں
نغمہ بر لب، مگر آنکھیں تر ہیں

لوگ بے چہرہ ہیں، گھر بے در ہیں
عصرِ نو کے بھی وہی منظر ہیں

گُل بدست آئے سبھی راہ نما
ان کے ذہنوں میں مگر پتّھر ہیں

یہ بھی اک طرح کی محکومی ہے
کہ ہم آزاد ہیں اور بے پَر ہیں

کوئی جینے کا سلیقہ بھی سکھائے
مُجھ کو مرنے کے سبق ازبَر ہیں

رائیگاں جائے گا سورج کا عتاب
سبز اشجار میرے اندر ہیں

اُس کو کیا خوف، نہ ہونے کا ندیم
جس کو ہونے کے ہزاروں ڈر ہیں

تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ

Verses

اندھیری رات

تیرگی پُرہول، صحرا بے اماں، بادل سیاہ
ایک میں، اور یہ اندھیری رات کی خونی سیاہ
کون ہے اُلجھی ہوئی شاخوں کے اندر بے قرار
کون مجھ کو گھورتا ہے جھاڑیوں سے بار بار
کون یہ آواز دیتا ہے کہ آتا کیوں نہیں
پردہ ہائے محملِ ظلمت اٹھاتا کیوں نہیں
ہاں لپک اُٹھا وہ کوندا سا دلِ سرشار میں
اب میں سمجھا کون ہے اِن پردہ ہائے تار میں
مجھ سے ملنے آئی ہے رتھ میں اندھیری رات کی
ہو نہ ہو یہ رُوح مُضطر ہے بھری برسات کی

Raah Main Unse

raah mein un se mulaakaat ho gayee
jis se darate the wahee baat ho gayee

ishk ke naam se dar lagataa thaa
dil ke anjaam se dar lagataa thaa
aashikee wo hee mere saath ho gayee

tere been kuchh naheen bhaataa hain muze
har taraf too najar aataa hain muze
jindagee taaron kee baaraat ho gayee

aankh roye naam pe tere saawan kee tarah
too samaayee dil mein mere dhadakan kee tarah
har taraf pyaar kee barasaat ho gayee

زندگی صرف اسی دھن میں گزارے جائیں

Verses

زندگی صرف اسی دھن میں گزارے جائیں
بس تیرا نام، ترا نام پکارے جائیں

جب یہ طے ہے کہ یہاں کوئی نہیں آئے گا
کس کی خاطر در و دیوار سنوارے جائیں

ایک تجھ تک نہ پہنچ پائے مرے درد کی آنچ
آسماں تک تو مرے غم کے شرارے جائیں

جب ملاقات نہ تھی تب تو کوئی بات نہ تھی
اب یہ تنہائی کے دن کیسے گزارے جائیں

یہاں غمخوار نہیں ھے وہاں ‌آزار نہیں
کس جہاں میں یہ ترے درد کے مارے جائیں

میں اندھیروں میں نہیں، میں ‌تو وہاں‌ جاؤں گا
وہ جہاں ساتھ مرے چاند ستارے جائیں

جیت کر تو کہیں لے جائے مسلسل ہم کو
اور ہم، روز تری چاہ میں ‌ہارے جائیں

مرگ جاں گر نہ سہی مرگ محبت ہی سہی
زندگی کچھ تو ترا قرض اتارے جائیں

فاصلوں سے نہ ہوا جوش محبت کا علاج
یہ تو کچھ اور بھی جذبوں کو ابھارے جائیں

بزم احباب تو تصویر کا اک رخ ھے عدیم
اس میں دشمن بھی تو دو چار ہمارے جائیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer